ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتوں میں تقریباً 7 فیصد اضافہ

عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں جمعرات کے روز نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا، جہاں قیمتیں تقریباً 7 فیصد تک بڑھ گئیں۔ اس اضافے کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان ہے جس میں انہوں نے ایران کے خلاف حملے جاری رکھنے کا اعلان کیا، تاہم جنگ کے خاتمے کے لیے کوئی واضح مدت نہیں دی۔
برینٹ خام تیل کی قیمت 6.84 ڈالر اضافے کے بعد 108 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 6.40 ڈالر اضافے کے ساتھ 106.52 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ سرمایہ کاروں کے خدشات کی عکاسی کرتا ہے، جو سمجھتے ہیں کہ جنگ کے باعث تیل کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ امریکی صدر کے حالیہ خطاب میں جنگ بندی یا سفارتی حل کا کوئی واضح ذکر نہ ہونے سے مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال مزید بڑھ گئی ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا یا سمندری راستوں کو خطرات لاحق ہوئے تو تیل کی قیمتیں مزید بلند سطح تک جا سکتی ہیں۔
ادھر علاقائی کشیدگی کے باعث سمندری راستوں پر بھی خطرات بڑھ گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق قطر کی ایک آئل ٹینکر پر ایرانی میزائل حملہ کیا گیا، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے سربراہ نے خبردار کیا ہے کہ تیل کی فراہمی میں رکاوٹیں اپریل سے یورپ کی معیشت کو متاثر کرنا شروع کر سکتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ واضح جنگ بندی منصوبے کی عدم موجودگی کے باعث مارکیٹ غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہنے کا امکان ہے۔
















